"زائر میں ابھی نہیں"
چہلم قریب ہے لوگ جا رہے ہیں — احرام جیسے کپڑوں میں، اور کچھ — کپڑوں جیسے احرام میں ہاتھ میں تسبیح، جیب میں ٹکٹ، ساتھ میں موبائل، اور دل میں… خیر، دل میں کیا ہے — یہ اللہ جانے میں سوچ رہا تھا… کاش میں بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میرا پاسپورٹ تو بن سکتا ہے پر میرے کردار کا ویزہ… شاید ابھی مسترد ہو جائے اصل زائر وہ ہے — جو جاتے وقت اپنے گناہ بستر پر چھوڑ جائے اپنی زبان کو تالے میں بند کر کے چلے اور وہاں صرف ایک چیز لے کر پہنچے — محبت ہاں، معرفت… یہ وہ پاسپورٹ ہے جو کبھی ایکسپائر نہیں ہوتا مگر افسوس، یہ بازار میں نہیں ملتا اور میں ابھی تک یہ خریدنے کی پوزیشن میں نہیں آیا لوگ جا رہے ہیں حسینؑ کی زیارت پہ اور میں… یہاں بیٹھا، سگریٹ کے دھوئیں میں اپنی قسمت کا دھواں دیکھ رہا ہوں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
