یار کی صفت
ہاں تُجھ سے ع ش ق کرتا ہوں پر اظہار کرنے سے ڈرتا ہوں تیری یاد میں روز تڑپتا ہوں تُجھ سے ملنے کو ترستا ہوں جب سے تیری نشیلی آنکھیں دیکھیں ہیں مُجھ کو اپنا بےحد نشائی کر گئیں ہیں ہائے وہ تیرے نرم بال جس طرح چمکِ گلاب وہ تیرے بے مثال گال کی کیا کہوں موقع ملے تو پوری عمر بوسے دوں اور تیری چال کا کیا تذکرہ ہو جیسے ہرنی بھی چال پر داد دے ہاتھ اتنے نفاست سے بنے ہیں انگلی لگنے سے میلے ہوتے ہیں نرم اتنے ھیں اِس قدر ہاتھ آپکے سے گلاب بھی ہے کم نرم ملکہ کے ہاتھ سے نظر ایسی کے نیلا سمندر بھی کم گر میں ڈوب کے مرجائوں یہ بھی کم نہ کوئی ذریعہ اُسکو باتیں بتانے کا میں ہوں دیوانہ اُس خزانہ حُسن کا اے رضاؔ کہدو دنیا کے لوگو خبر کر دو محبوب کو اِک بیکرار و بے چین شخص دیکھتا ہے تیرے كو
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
