یادوں کا موسم
جب ہر سو آزادی تھی، فضا میں خوشبو پھیلی تھی، نہ دل پر کوئی زنجیر تھی، نہ لفظوں پر کوئی پہرہ تھا۔ ہم چُپکے چُپکے لکھتے تھے، کاغذ پہ خواب سجاتے تھے، تُو پھولوں جیسی باتیں تھی، میں خوابوں جیسا لڑکا تھا۔ ہر لفظ میں تیری خوشبو تھی، ہر جملہ تیرا چہرہ تھا، وہ سادہ سی باتیں تھیں، مگر دل کو چھو جاتی تھیں۔ اب وقت بدل سا گیا ہے، نہ وہ خط ہیں، نہ وہ لمحے، نہ وہ بچپن کی رنگینی، نہ تو، نہ تیرا سایہ ہے۔ تو اب کہیں دور بسی ہے، کسی اور دنیا میں شاید، پر جب بھی لکھنے بیٹھوں میں، دل تیرا نام ہی کہتا ہے۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
