. "یادوں کا مندر"
میں پھر سے بیٹھا ہوں پاندو پارک میں، جہاں کبھی ہم دوستوں کے قہقہے گونجتے تھے، چنار کے سائے تلے، خنک ہوا میں کچھ خواب اُگتے تھے۔ وہی چنار، وہی دھوپ کی چھاؤں، مگر آج صرف عشاق ہیں، تصویریں کھینچتے، کسی لمحے کو دائمی بنانے کی کوشِش میں۔ ہم یہاں بیٹھ کے ہر مضمون پہ بات کرتے، فلسفہ، تاریخ، شاعری، کبھی کبھی صرف خاموشی۔ یہیں بتایا گیا تھا کہ پاندوؤں نے کیسے پتھر لائے، اور ایک شیو مندر تراشا، پتھروں میں عقیدت بسائی۔ یہیں میں نے ایک پرانی کہانی کا منظر تخلیق کیا، میرے افسانے کا ہیرو ظلم کے خلاف بغاوت کرتا ہے، اور اسی مقام پر لوگ اُسے قربان کرنے کو جمع ہوتے ہیں۔ کتنی مکمل لگتی تھی دنیا اُس وقت، اور آج۔۔۔ آج میں تنہا ہوں، میرے افسانے ادھورے، میری باتیں خاموش۔ نہ وہ دوست، نہ وہ قہقہے، نہ وہ بحثیں، نہ وہ چمکدار دن، صرف یادیں، چنار کے پتوں کی طرح، ہوا میں بکھرتی جا رہی ہیں۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
