"یہ رات بہت کچھ کہتی ہے"
اک کمرہ ہے، کچھ خامشی ہے ساتھ نہ روشنی ہے، نہ سایہ، نہ رات میں خود سے لپٹ کر بیٹھا ہوں بس دل ہے، درد ہے، اور کچھ بات ۲ وہ لمحے جو سانسوں میں چھپتے رہے وہ چہرے جو آنکھوں سے گرتے رہے میں سب کو کتابوں میں رکھ آیا ہوں وہ صفحے جہاں خواب جلتے رہے ۳ کوئی آہٹ نہیں، کوئی آواز نہیں میرے جیسا یہاں کوئی راز نہیں میں اشعار میں دفن ہوتا گیا یہ کاغذ مرے ہم آواز نہیں ۴ کہاں جا چکے ہیں وہ سارے یقین کہاں رہ گئی ہے وہ دل کی زمیں اب ہر بات لگتی ہے جھوٹی سی اب ہر شخص لگتا ہے مجھ سا حزیں ۵ نہ امید باقی، نہ خواہش بچی نہ یادیں بچیں، نہ فرمائش بچی میں خود کو بہت دیر سے کھو چکا اب مجھ میں فقط اک تنہائی بچی
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
