ہوئے ہم انجان
ہوئے ہم انجان، دل کی صدا بھی کھو گئی تیرے بعد ہر خوشی جیسے کہیں سو گئی باتیں تھیں جو کل تک لبوں پہ رقصاں رہیں اب ہر اک کہانی خامشی میں ڈھل گئی رستے بھی وہی ہیں، مگر سمت بدل گئی اپنوں کی وہ محفل بھی اجنبی سی ہو گئی ہم تھے جو کبھی ایک ہی خواب کے ہمسفر وقت آیا تو اپنی پہچان بھی کھو گئی
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
