وہ پرانا کمرہ
اب وہ پرانا کمرہ نہیں رہا، جہاں دھوپ دادی کے ہاتھوں کی خوشبو میں گھلتی تھی، جہاں راتیں کہانیوں کے لفظوں میں سوتی تھیں، اور خواب، چادر کے کناروں سے لپٹ کر مسکراتے تھے۔ اب وہاں ایک بڑا مکان ہے — چمکتی دیواریں، خاموش فرش، نیا پن جیسے کسی اجنبی کی مسکراہٹ ہو، پر دل اب بھی اس کمرے کی طرف دوڑتا ہے۔ یاد ہے وہ کھڑکی، جس سے باہر درختوں پر پرندے شام لکھتے تھے، اور دادی کا لہجہ، جیسے دعا کے بیچ کوئی نرم دھڑکن چھپی ہو۔ اب میں اس جگہ جاتا ہوں، تو زمین پہ دادی کے قدموں کے نشان ڈھونڈتا ہوں، پر سب بدل گیا ہے — وقت نے دیواروں سے وہ خوشبو چھین لی ہے جو صرف محبت میں رہتی ہے۔ میں بڑا ہو گیا ہوں، پر دل اب بھی اُس چھوٹے بستر پر سونا چاہتا ہے، جہاں دادی کی نیند میرے خوابوں کو سلایا کرتی تھی۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
