وہ مقدروں سے ڈر گئے حیرت ہے
وہ جو آخری امید تھے ہارے ہوئے بزرگوں کی وہ مقدروں سے ڈر گئے,, حیرت ہے وہ جو اپنےہی عکس کے ہزار صدقے آج خود ہی سے لڑ گئے,, حیرت ہے میرا سرے عام اجتماعی قتل ہوگیا اور کسی کو میرے آثار نہ ملے,, حیرت ہے تو مجھ سے بھی عبادتوں کا حساب کرے گا تیرے سامنے تیرے بندوں نے روندا مجھے حیرت ہے ہزار شکر کہ تو سن رہا تھا دیکھ رہا تھا مجھے میں تڑپتی رہی تو خاموش رہا ,, حیرت ہے میرا طبیب میرے حق میں بہتر تھا مگر زخم بڑھ رہے ہیں دوا سے ,,حیرت ہے حرا نعیم
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
