"وہ جو کبھی میرا تھا بھی نہیں"
کیا عجیب بات ہے... میں اُسے چاہتا رہا اور وہ... شاید، ہنستا بھی تھا مجھ پر۔ کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں نے آخر کیا چاہا تھا؟ محبت؟ ہنہ... محبت — وہ تو مجھے خود سے بھی نہیں تھی۔ میں نے اُسے دل دیا تھا — ہنسی دے دی تھی — اپنی ہر شام، ہر خامشی، اور وہ؟ وہ میرے لہجے میں بور ہو گیا تھا شاید۔ کہا کچھ نہیں بس… جاتا رہا اور میں، ہر بار، خود کو تھوڑا سا چھوڑتا گیا۔ کبھی کبھی لگتا ہے میں صرف سہنے کے لیے پیدا ہوا ہوں، کچھ کہنے کے لیے نہیں۔ تم سن لیتے، تو شاید یہ نظم نہ ہوتی۔ تم سمجھ لیتے — تو شاید میں بچ جاتا۔ پر چلو... اب کیا؟ اب تو میری مسکراہٹ بھی تمہاری نہیں، اور میرا درد بھی کسی کام کا نہیں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
