تصویر سے دل تک
گجرے سے مہکتا ہوا اک ہاتھ ملا ہے تصویر نہیں، دل سے کوئی پیغام ملا ہے کہتی ہے نظر، لب تو ابھی خاموش کھڑے ہیں اس عکس میں صدیوں کا احساس ملا ہے ہم نے تو لکھا تھا بس سچ اپنے لہو سے لفظوں کو مگر رنگِ جذبات ملا ہے دنیا کو بتایا نہیں، رکھا ہے چھپا کر اس ایک اشارے میں مرا نام ملا ہے افشووؔ، یہ غزل کوئی دعویٰ نہیں کرتی بس ہاتھ کے گجرے میں مرا خواب ملا ہے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
