سورج ڈھلا
سورج ڈھلا تو رنگوں کی ایک برسات ہے افق پہ بکھری ہوئی سنہری سی بات ہے نرم سی روشنی میں ڈوبی یہ کائنات ہے ہر سایہ آج جیسے خود میں ایک ذات ہے ہوا بھی تھم سی گئی، خاموش سی رات ہے دن کی تھکن کے بعد سکون کی یہ سوغات ہے پرندے لوٹ آئے، گھروں کی طرف ہر بات ہے دل میں اترتی ہوئی ایک میٹھی سی یاد ہے سورج ڈھلا مگر امید ابھی ساتھ ہے ہر اندھیری رات کے بعد نئی شروعات ہے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
