سجّاد کون ہے
امکان کا سینہ بنے سفینہ تو انتہا ہو فضا جو چوم کے آئیے نجف تو بیاں ہو حیدر کرار کی شجاعت کا جو وارث بنے جس کو اپنے بابا سے امامت میں ملے دربارِ یزیدیت میں بیعت شِکن خطبہ دے شام اُجاڑ دے خود سوچ لو وہ کون ہے جو پل گردنِ فاسق مڑورے اُس کا شیر نام جو شام میں علم لہرائے وہ جو سرِ شام پرھ کے خطبہ تو تخت اُلٹاے جو سجدوں کی زینت بنے سجدوں کی جو قید ہو کر بچائے محنت نبیوں کی جو سونا فرعونِ شام کا دشوار کر دے باندھ کر اُسے زنجیرِ پا سے جو بیمار کر دے جس کو پلید نے کہا ہم جیت گیے قیدی ہو تم فرمایا کہ گر کہ دوں اُسکت تو ہل نہ سکو تم رضاؔ یہ بات سوچی ہے میں نے حکمِ خداوندی سے نہ کرتے سجدہ تو سجاد کو کُچھ بے عقل خدا مان لیتے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
