"شام کی دہلیز"
شام جب سورج پہاڑوں کے پیچھے اپنی سنہری چادر رکھ آیا، اور ہوا سوکھے پتوں کے ساتھ کوئی پرانا نغمہ دہرانے لگی، میں تنہا بیٹھا اپنی ہی زندگی کو پڑھتا رہا۔ میں نے سوچا، کتنے برس ہتھیلی سے پانی کی طرح بہہ گئے۔ کتنے چہرے دل کے باغ میں کھلے، اور خزاں آتے ہی پتوں کی طرح بکھر گئے۔ جو دوست کل تک میری ہنسی کا حصہ تھے، آج خاموش یادیں ہیں۔ اور جو آج میرے ساتھ ہیں، شاید کل کسی اور شام کا قصہ ہوں۔ پھر میں نے آسمان کی طرف دیکھا۔ ایک تنہا ستارہ اندھیرے سے لڑ رہا تھا۔ تب یوں لگا شاید زندگی کا مطلب منزل نہیں، بلکہ یہی خاموش سفر ہے۔ شاید خدا نے میری قسمت کی کتاب میں ابھی آخری صفحہ نہیں لکھا۔ شاید میری مٹی میں ابھی ایک پھول باقی ہے، جو کسی آنے والی بہار میں خاموشی سے کھلے گا۔ اور میں، اس ڈھلتی شام کے کنارے، اپنے تمام سوالوں کے ساتھ بس اتنا جان سکا— ہر ادھوری کہانی بے مقصد نہیں ہوتی، کچھ کہانیوں کا حسن ان کے مکمل ہونے سے پہلے سمجھ میں نہیں آتا۔ صوفی دلاور حسین۔۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
