سفرِ رہبر
پہلا قدم تھا تھوڑا انشور، تھوڑا سا گھمّان ہر ایج گروپ کا تھا جلوس، ہر چہرہ ایک نئی پہچان سوچا تھا سوچ کا فرق شاید بنائے فاصلہ لیکن دل نے کہا یہ تو ہے ایک نیا راستہ سفر شروع ہوا اور منزل سامنے آئی غلطیوں سے بچانا نہیں، ان کا شعور دینا تھا بھائی "بھائی" کہ کر جب اسٹوڈنٹس پکارے ہیں ایک لفظ میں پوری دنیا کی گرماہٹ مل جاتی ہے ٹیم کا رنگ تھا الگ لیکن مشن ایک ہی تھا ڈس ایگریمنٹس آئے لیکن دل کبھی ٹکرا یا نہیں تھا دن گزرتے گئے اور ہم سب ایک دوسرے کے ہو گئے ذہن اور دل کو سونا بنانے کا ارادہ روشن ہو گئے خوشی آپا ان کی ہنسی — جیسے اسٹریس کا سوئچ آف ہو جائے ہر ٹینشن ان کے ایک لاف میں ہوا ہو جائے واسیم بھائی ان کا ہیومر — ایک چھوٹی سی بات، لیکن دن بن جائے سمائل میں چھپی وہ طاقت — ہر موڈ کو فریش کر جائے عمیر بھائی کم بات، لیکن سمپل سٹی میں خوبصورتی چھپی تھی ان کی ہمیلٹی نے ہر لمحہ کو روشن کر دیا تھا نوید بھائی 1 بس کی سیٹ پر ایڈوائس ملی، عزّت بھی ساتھ چلی ان کی کمپنی نے دل ہلکا کیا اور باتیں کہنے کا موقع دیا نوید بھائی 2 خاموشی میں ایک قوت تھی، ایک ادب کا فن تھا انہوں نے سکھایا — بات کرنا بھی ایک ہنر ہوتا ہے مبین بھائی ساتھی بنے اور زندگی کے سبق دیے ایک بات جو دل کو چھو گئی دنیا کی سب سے خطرناک بیماری یہ ہے کہ انسان اپنے ذہن کا کنٹرول کھو دے یہ الفاظ پہلے بھی سنے تھے لیکن جب ان کے لہجے میں آئے — تو اثر مختلف تھا بھا
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
