"صبر"
صبر بولا، "ذرا ٹھہر جاؤ، پھول کو کھلنے دو۔ شب کی آنکھوں میں جو نمی ہے، اسے موتی ہونے دو۔ درد اگر آج مہکتا ہے، کل گلشن بن جائے گا۔ وقت کی خاموش انگلی پر ہر زخم سنور جائے گا۔ میں نے دیکھا، خشک شجر بھی ابرِ کرم سے ہنستے ہیں۔ جو سر جھکانا جان گئے، وہی فلک تک اٹھتے ہیں۔ جلدی، آگ کا پہلا شعلہ؛ صبر، سحر کی پہلی کرن۔ جلدی راکھ بنا دیتی ہے، صبر عطا کرتا ہے چمن۔ آؤ، میرے ساتھ چلو، راستہ خود روشن ہوگا۔ دل اگر خاموش رہے تو ہر موسم گلشن ہوگا۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
