سایا — انتقام کا سفر
جب وہ لوٹا، اُس کی آنکھوں میں آگ تھی نہ آنسو، نہ رحم، بس راکھ، بس انتقام اس کے ہاتھوں میں ایسے منتر تھے جنہیں سن کر پہاڑ بھی کانپتے تھے۔ اندھیرے نے اسے گود میں لے لیا رات نے اسے اپنا بیٹا کہا وہ جادو جس سے وقت رک جائے، وہ سیکھ چکا تھا، وہ جان چکا تھا۔ وہ بستیوں میں آیا، اور بستیاں مٹی ہو گئیں وہ جو سانس لیتے تھے، وہ مٹی میں دفن ہو گئے ہر شے جو زندہ تھی، اس کے لیے دشمن تھی وہ نفرت بن چکا تھا، ایک مکمل سایہ۔ کچھ کہتے ہیں، وہ لڑکی آج بھی زندہ ہے کسی پہاڑ پر، پچھتاوے میں جلتی ہوئی وہ ہر رات اس کا نام پکارتی ہے مگر "سایا" اب صرف چیخیں سنتا ہے۔ اب وہ دیواتاؤں کو بھی چیلنج کر چکا ہے اس کی تلوار میں آسمان کی روشنی بھی تھرتھراتی ہے کہتے ہیں، وہ دن آنے والا ہے جب وہ پوری دنیا کو خاموش کر دے گا۔ لیکن کچھ پرانی پیشگوئیاں اب بھی کہتی ہیں— ایک دن، ایک اور سایہ اُبھرے گا جو روشنی سے نہیں، اُس کے سائے سے لڑے گا اور شاید، "سایا" کو اُس کی اپنی آگ جلا دے۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
