صاحب ممبر کے نام
تم کہتے ہو دین کی خدمت کر رہے ہیں، ہم دیکھیں تو صرف نمبروں کے کھیل کھیل رہے ہیں۔ لوگ بھٹک رہے، یونیورسٹی نہیں، کارخانہ نہیں، تمہارے جلسے میں لوگ مرنے کو تیار، اور تم گوشت کھا رہے ہو، خوش مزاج! ممبر ممبر، نمبر نمبر، تم نے نشہ لگا دیا، دلوں میں دشمنی، بھائی بھائی کے بیچ زہر گھلا دیا۔ بے روزگار جوان سڑکوں پر، تمہارے جلوسوں کے نام پر، کاش تم دیکھو، یہ دین ہے یا صرف شو بزنس کا کام؟ حسینؑ کے نام پر کاروبار، ایمان کا بازار، تمہاری خیرات؟ بس فوٹو کے لیے، اور باقی سب مذاق۔ نمبروں کے کھیل، ممبر کے دھوکے، دلوں کی قیمت نہیں، لوگ بھٹک رہے، تمہیں ذرا بھی احساس نہیں۔ یہ مذہبی استحصال ہے، کھلا ہوا، سب کے سامنے، لوگ تمہارے نام پر مر رہے، اور تم ہنس کے کہتے، "سب ٹھیک ہے بھیا!" یہ شور، یہ جلوس، یہ نمبروں کا کھیل، کاش تم سمجھو، دین نہیں، یہ سب صرف تمہارا میل۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
