سائبان
سائبان ہاں!کتاب میں کوئی لکھی کہانی غزل جیسا تھا پڑھے کوئی طلسم جیسےجادوئی اثر جیسا تھا دور تھا مگر راستےمیں راہ گزر جیسا تھا وہ اس بھری دنیا میں چھت سائبان جیسا تھا ساتھ چلتے تھے جب وہ ایک ساتھ دونوں تپتی دھوپ میں چھاؤں ٫ہم سفر جیسا تھا ایک ہی راہ پہ نکلتی ہیں راہیں تمام سب چلتے چلیں جائے ہم ایک سفر جیسا تھا نہ وہ کچھ ایسا تھا نہ وہ کچھ ویسا تھا ہاں !کچھ الگ تھا مگر کچھ اپنے جیسا تھا اندھیرے ہو جائے سب رستے جب راہ کے زندگی کی راہ میں ایک دیئے جیسا تھا جسکی باہنوں میں تھک ہارکرلپٹ جاؤں وہ ایک گھنا درخت تھاکچھ شجر جیسا تھا باندھ لیتا ہے جیسے اپنے لفظوں کے بندھن سے اس کےلفظوں میں تبسم ایک ہنرجیسا تھا تجھ کو بھول جانے کابھی ایک وقت ایسا تھا بھلا بیٹھے سب کچھ زندگی کا ایک لمحہ فکر جیسا تھا بستی ہے کہیں لوگوں کی دنیا جس میں وہ اس صدی میں کہیں ایک شہر جیسا تھا وہ زندگی کے گزرے لمحوں میں ایک لمحے جیسا تھا آج تک جسے بھلا نہ پائے وہ اس پہر جیسا تھا آکر جو گزر جائے ایسی قیامت تھی ٹوٹی آندھی ٫طوفان٫قیامت وہ قہر جیسا تھا نیک لوگوں کو ملتا ہے نیکی کا صلہ خدا سے جیسے دنیا میں مل جائے ثواب٫اجر جیسا تھا ہیں الگ راستے ٫بہتے ہیں الگ دِشا میں وہ پیاس بجھاتا ہے سمندر٫نہر جیسا تھا چھاتی ہے غم کی گھٹا٫مصیبت٫پریشانی جب جب ساتھ دیتا ہے بن کر نگہبان و سایا٫راہبرجیسا تھا دیکھ کرہٹتی نہیں نگاہ باربار دیکھو جس کو تھا شخصیت میں نکھاروہ ن
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
