"ٹھہرنا نصیب نہیں"
سوچا تھا تم میرے آخری کنارہ ہو گے جہاں یہ تھکی ہوئی سانسیں ٹھہر جائیں گی جہاں دل کو قرار ملے گا، آنکھوں کو خواب ملیں گے مگر زندگی نے پھر سے ایک موڑ بدل دیا ہے میں نے چاہا تھا تمہارے ساتھ عمر گزار دوں اپنے دن، اپنی راتیں سب تم پر وار دوں مگر قسمت نے کشتی کو پھر سے سمندر میں دھکیل دیا جہاں نہ کوئی ساحل ہے، نہ کوئی چراغ، نہ کوئی صدا اب ٹوٹی ہوئی کشتی کے ساتھ لہروں سے لڑتا ہوں کبھی امید ڈوبتی ہے، کبھی آنکھوں میں جاگتی ہے نہ جانے خدا کو کیا منظور ہے میرے لیے کون سا بندرگاہ ہے جو میرا مقدر ٹھہرے گا شاید کسی نئے طوفان کے پار روشنی ہو شاید کسی اجنبی ساحل پر دل کو پناہ ملے مگر ابھی تو بس سفر ہے، اور سفر ہی میرا ہمسفر ہے رکنے کی چاہ کے باوجود رکنا نصیب ہی نہیں ہوتا
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
