رات کی تنہائی اور میں
اج بھی رات گزر گئی ہے، نہ جانے نیند کیوں نہیں آتی۔ شاید محکم کے بارے میں سوچتا ہوں، یا اُن لوگوں کے بارے میں جو جا چکے ہیں، یا شاید اُن کے بارے میں جو آنے والے ہیں۔ کچھ عجیب سا ٹھہراؤ ہے — جیسے وقت رک گیا ہو، اور میں خود سے پوچھتا ہوں، آخر میں ڈھونڈ کیا رہا ہوں؟ رات کی خاموشی سے کیا مانگ رہا ہوں؟ نیند… وہ تو برسوں سے روٹھ چکی ہے۔ کاش ایک بار، بس ایک بار، پرانے دنوں کی طرح گہری، لمبی نیند سو جاؤں — اور صبح دادی کی آواز آئے، "اُٹھو بیٹا، سورج نکل آیا!" مگر نہ دادی ہے… نہ نیند۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
