پل
پل وہی ہے، جو دو کناروں کو جوڑتا ہے، خاموشی سے، بے آواز، نہ اذان دیتا ہے، نہ بھجن گاتا ہے، نہ کسی قبلے کا رخ دکھاتا ہے، نہ کسی مندر، نہ کسی مسجد کا نشان رکھتا ہے۔ ہم اکثر بھول جاتے ہیں، ان چیزوں کو، جو ہمیں ملاتی ہیں، جو ہمیں اک کرتی ہیں، بس یاد رکھتے ہیں وہ فرق، جو ہمیں بانٹتے ہیں، مسالک، رسمیں، دیواریں۔ مگر جب دریا سامنے آتا ہے، اور ہمیں پار جانا ہوتا ہے، تب ہم تلاش کرتے ہیں، بس ایک پل— جو کچھ کہے بغیر، ہمیں لے جائے اُس پار، جہاں کوئی نظریہ نہیں، بس ضرورت ہے۔ وہ پل جو صدیوں سے قائم ہے، نہ ٹوٹا، نہ بگڑا، بس تھما رہا ہے، ہمیں، تمہیں، سب کو، ایک دوسرے سے۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
