نظم: سکوتِ دل
مجھے فطرت نے بلایا تھا، نرمی سے، بے آواز جیسے شام کا آسمان درختوں کی چھاؤں میں میں نے پہلی بار اپنا آپ سنا۔ ہوا نے کہا: "خاموشی میں راحت ہے" بارش نے میرے دل پر نرمی سے لفظ اتارے پھولوں نے کچھ کہنا چاہا — اور میں نے لکھنا سیکھا۔ پھر وقت نے رخ بدلا — حادثے آئے یوں جیسے کسی جھیل میں اچانک پتھر گر جائے اور سب عکس بکھر جائیں۔ میں اب بھی لکھتا ہوں مگر وہ روشنی نہیں رہی نظم اب بھی بہتی ہے پر اس میں غم کا رنگ گہرا ہے۔ وہ آنکھیں… جن میں میں نے اپنا سکون پایا تھا اب کسی اور کے سپنے ہیں اور اُسے نیند بھی آ جاتی ہے۔ اور میں؟ میں اب بھی اسی پہاڑی کے دامن میں بیٹھا ہوں جہاں خاموشی میرا اکلوتا رفیق ہے اور سکون — اب بھی ایک مسافر ہے جو لوٹ کر نہیں آیا۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
