نظم: سایا—اندھیرے کا جنم
کہتے ہیں، وہ بچہ تھا، بارہ برس کا جب شمالی بادشاہوں کے آدمی آئے جلتا ہوا گاؤں، چیختی ماں، اور وہ، زنجیروں میں بندھا ہوا سایہ بن گیا۔ انہوں نے مارا، جلایا، توڑا پھر بیچ دیا ایک جادوگر کو وہ جادوگر جو روشنی سے نفرت کرتا تھا اور اندھیرے میں سانس لیتا تھا۔ وہیں سیکھا اُس نے ہر کالا ہنر ہنستے چہروں کو راکھ میں بدلنا سانسوں کو زہر میں گھول دینا اور آنکھوں میں موت بھر دینا۔ پھر سنا گیا، وہ کسی سے پیار بھی کر بیٹھا مگر وہ لڑکی، اُس کے زخموں کا مذاق اُڑاتی رہی ایک دن، چھری اس کے دل میں اُتر گئی اور وہ مر گیا… کچھ دیر کے لیے۔ پھر وہ لوٹا، راکھ سے، خون سے، اندھیرے سے اور اب، وہ صرف ایک نام ہے — "ڈارک شیڈو" جو جیتا ہے، صرف نفرت کے لیے جو جلانا چاہتا ہے، سب کچھ… ہر شے… ہر سانس۔ کیونکہ اُس نے انسانوں کو صرف درد دیتے دیکھا اور اب وہ چاہتا ہے، کہ درد سب پر اترے کیونکہ اُس کا یقین ہے — کہ روشنی صرف ایک دھوکہ ہے۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
