نظم: دیوار کے پار
قید میں ہوں، پر قید نہیں ہوں، میرے خواب اب بھی زندہ ہیں، دیواریں سنتی ہیں جب میں چپ ہوتا ہوں، اور سائے بولتے ہیں جب میں بندہ ہوں۔ ہر اینٹ پہ وقت نے تحریر کی ہے شکست، مگر دل کے کتبے پہ لکھا ہے: ہنوز اُمید باقی ہے۔ چٹان جیسا صبر میرے اندر پلتا ہے، اور بارش کی بوندوں میں میں اپنا چہرہ ڈھونڈتا ہوں۔ کبھی کبھی رات اتنی لمبی ہو جاتی ہے کہ دن کی روشنی صرف خیال رہ جاتی ہے— مگر خیال ہی تو زندہ رکھتے ہیں آدمی کو۔ میں نے ایک چُھپی سرنگ میں اپنے ہاتھوں سے راستہ کھودا، ہر مٹھی مٹی میں دفن کیا ایک دکھ، اور ہر اینٹ کے پیچھے چھپا دیا ایک خواب۔ کوئی جان نہ پایا کہ میں وقت کے ساتھ لڑتا رہا، ہر دھڑکن میں چھپی تھی ایک فریاد، کہ "میں آزاد ہوں، بس دنیا نے ابھی جانا نہیں!" آج جب میں ہوا میں سانس لیتا ہوں، تو وہ آزادی کی خوشبو ہے— جو سالوں سے میرے سینے میں بند تھی۔
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
