ٹھنڈی ہوا کی تلاش
پل پر کھڑا ہوں خاموشی میرے شانے پر ہاتھ رکھے شام کی دھندلی چادر آسمان سے اُتر کر دریا کی بانہوں میں سمٹ رہی ہے پانی، گہرے خیالوں کی طرح نیچے بہتا جا رہا ہے نرمی سے، خاموشی سے، جیسے کوئی پُرانی بات دہرا رہا ہو پل کے اُس کنارے سے لوگ آ رہے ہیں چند لمحوں کی راحت کی تلاش میں اُن کے چہرے، دن بھر کے شور سے تھکے ہوئے اُن کی آنکھوں میں ٹھنڈی ہوا کی چاہ جیسے دعا ہو کسی ماں نے بچے کو گود میں لیا ہے اور اُس کی ہنسی دریا کی لہروں سے مل کر فضا میں گھل گئی ہے ایک بوڑھا شخص چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ چلتا ہے اس کے چہرے پر شام جیسا سکون ہے یہ دریا، یہ پل، یہ ہلکی ہلکی ہوا کب سے ہماری روحوں کو خاموشی میں سہلاتے آ رہے ہیں اور میں، یہ سب دیکھتا ہوں محسوس کرتا ہوں کہ شاید شام کو بھی کسی کے ساتھ کی طلب ہو
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
