نوحہ نہ اٹھانا تلوار علی ع
کی یہ وصیت پاک محمد نے ہوں میں اپکا سردار علی آئیے جو اُمتِ نا سمجھ اجر رِسالت لے کر کھینچیں آپکے گلے میں رسن ڈال کر میری طرح برداشت کرنا نہ بدلا لینا علی ع بیشک کوئی در جالا دے میری بیٹی پر گرا دے نہ لڑنا کسی سے میرا کرار علی ع کوئی جو سند پھارے در پر اکے دھمکی دے جلال میں نہ انا آپ میرا سالار علی ع گر کوئی مارے تماچہ میری بیٹی کو تم نہ رونا تم سنبھالنا میری بیٹی کو روں گا میں مزار میں بن کے اپکا عزادار یا علی ع گر کوئی میری بیٹی کا بازو توڑے گر کوئی میری بیٹی کی پسلیاں توڑے یاد مہدی عج کو کرنا میرا فاتحِ حيبر علی ع کیا یہ ویں رضاؔ رسول نے رو کے تم دفن کرنا میری بیٹی رات میں ہے اللہ کا پردہ میری بیٹی آپ اُسکا پردہ بنانا علی ع
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
