""نقشوں میں گم ہوں""
تنہائی کی گلیوں میں میں گم ہوں، پرانے کتابوں میں ڈوبے ہوں۔ نقشوں کے رنگوں میں ماضی کے زخم، چپ چاپ تخلیق کرتا ہوں، اپنا جہاں ہوں۔ وہ پوچھتی ہے کیوں نہیں چُنا تھا تجھے، مگر دل نے سیکھا ہے، ایک دھوکہ کافی تھا۔ محبت کی راہ میں، میں نے جھیلا تھا دکھ، اب جھوٹ سے بچ کر، اپنا راستہ چُنا تھا۔ دیکھوں تو بے صدا ہے یہ کمرہ، پر ہر گوشے میں درد کی گونج ہے۔ پرانے نقشے اور زرد کتابیں، میرے دل کی سرگوشی ہیں، دل کے راز ہیں۔ میں اکیلا ہوں، مگر یہ عالم بھی خوشی کا ہے، دکھ میں سکون کی ایک لذت بھی ہے۔ ماضی کا درد، اب روشنی بن چکا ہے، تنہائی میں ہی میری تخلیق کا راز چھپا ہے۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
