نامِ خدا میں
1 خدا کے نام پر کتنے قلم ٹوٹے، کتنی زبانیں خاموش ہو گئیں، معبد، مسجد، گرجے، سب بنے قید خانے، جہاں سوچنے والے سولی چڑھ گئے۔ 2 کتابیں آئین بنیں قتل کے، دعا کا مطلب سزا ہو گیا، جہاد کا مفہوم بگڑ گیا یوں، کہ بچہ بھی دشمن خدا ہو گیا۔ 3 مذہب جو روشنی تھا، آگ بن گیا، عقیدے نے انسان چھین لیے، ایک نے جنت کا خواب بیچا، دوسرے نے دنیا اجاڑ دیے۔ 4 خدا، جو سب کا، سب میں ہے، اسے فرقوں میں بانٹ دیا، اور ہم اسے بچانے نکلے، جیسے وہ کمزور سا راز ہو گیا۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
