میری چاھت
میں جس کو چاھوں آسماں بنا لیتا ہوں خود کو خاک اس کے قدموں کی کبھی زمیں بنا لیتا ہوں کرکے روشن اسکی اندھیری راتوں کو دیپ بن کر میں خود کو جلا دیتا ہوں لگا کر رونقیں سجا کر اسکی محفلیں میں خود کو غموں کی گھاٹ میں اتار لیتا ہوں ہوں لٹا کر سمندر چاہتوں کے اسکی جھولی میں خود کو سوالی بنا لیتا ہوں دعائیں مانگتا ہوں نا آئے کبھی کمی نا آئے کبھی اسکی آنکھوں میں نمی تھام کر سسکیاں اپنی خود کے آنسوں بھی چھپا لیتا ہوں سونپ کر بادشاھی اسے اپنے خوابوں خیالوں کی خود کو کبھی فقیر کبھی رعایا بنا لیتا ہوں مجھ سے نا پوچھ ٫حیات، اپنی مسکان کی قیمت میں تو رقیب کے قہقہوں پر بھی جشن منا لیتا ہوں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
