میرے رشتے، میرے بھائی،
تم سب کبھی میرے حصے تھے آج سب اپنے حصے کے ہو گئے میں نے تمہیں خون دیا تھا تم نے مجھے کاغذ میں ناپا میں نے رشتے سنبھالے تم نے قیمتیں لگا دیں تمہارے لیے میں رشتہ تھا — جب تک فائدہ تھا اب میں ایک نام ہوں جسے تم ہر لسٹ سے کاٹ دینا چاہتے ہو تم سب نے وہ دن بھلا دیے جب ہم ایک روٹی بانٹ کر کھاتے تھے جب ایک کمبل میں سب سردی گزار لیتے تھے جب ایک آنسو کے لیے سب کے دل بھیگ جاتے تھے اور آج ایک انچ زمین پر تمہارا دل سخت ہو جاتا ہے ایک دستخط کے لیے تم اپنی آنکھوں سے میرا چہرہ مٹا دیتے ہو سن لو… میں اب تمہارے دروازے پر کبھی نہیں جاؤں گا میں تمہیں پکارنے والا نہیں تم سب اپنی جائیدادوں کے وارث ہو اور میں — اپنی نفرت، اپنی تنہائی، اور اپنی انا کا واحد مالک
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
