میرے لبوں کی ہنسی
تم نے کہا— تمہاری ہنسی بہت خوبصورت ہے۔ میں نے چاہا کہ ہنس دوں اور مان لوں، مگر کیا بتاؤں— یہ ہنسی میرا جرم ہے، میری مجبوری ہے، میرا پردہ ہے۔ اصل ہنسی تو وہ تھی جو ایک دن اچانک مجھ سے روٹھ گئی۔ اب تو بس عادت ہے، چہرے پر ایک ماسک ہے، جسے میں اتارتا نہیں— کہ کہیں لوگ میرے اندر کا سناٹا نہ دیکھ لیں۔ تم کیا جانو ہنسی کے پیچھے کتنی چیخیں ہیں، کتنے زخم ہیں، کتنی راتیں ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ ہنسی کو لوگ پسند کرتے ہیں، غم کو کون دیکھتا ہے؟ اس لیے میں مسکراتا رہتا ہوں— اور اندر سے آہستہ آہستہ مٹتا رہتا ہوں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
