میں ذوالفقار ہوں
میں چلتی ہوں وجھواللہ کے ہاتھ سے کٹ جاتا ہے ہر کافر میرے وار سے آئی ہوں میں جنت سے بنی ہوں میں مرد کے لیے چلایا ہے مجھکو عبّاس دلاور نے کاٹا ہے میں نے ہزار شامی صفین میں میں چلی ہوں ابو تراب کے یدوللہی سے ہر میداں میں جس نے فنّار کیا تھا مرحب جیسے بہادر صفین میں عبّاس و اکبر نے مارے ہیں سینکڑوں شامی کربل میں میں وہ ہوں جس لڑا ہے حسیں ع کے سنگ دشتِ بلا میں میں ہوں وہ جس نے چلنا ہے حجت کے ہاتھ سے نکال کر لیں گے جب مولا فدک کا حساب مزار سے لیں گے جب ریداؤں کا حساب ملعونوں سے بعد ظہور رضاؔ مرتجز و ذولفقار ہوں گے حجت کے ساتھ ہم ضرور
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
