میں کہانی ہوں، ادھوری سی
مجھے نہ تھا کوئی شوق شہرت کا وہ تو اک بےمعنی سی شورش ہے میں تو خود میں بھی گمنام رہتا ہوں خود سے بھی اجنبی، خود پہ حیرت ہے محبت؟ ہاں... وہ تو اک فریب تھا جو قسمت کے کچرے دان میں پھینک آیا ہوں اور کسی کا ساتھ؟ ہنہ، یہ لفظ بھی کب کا مر چکا ہے میرے لغت میں سچ پوچھو تو اب سمجھ ہی نہیں آتا کہ میں چاہتا کیا ہوں؟ یا شاید... یہی نہ جان پانا میری واحد پہچان ہے لیکن ہاں اک خواہش ہے جو زہر بن کے رگوں میں بہتی ہے کہ لکھوں میں وہ کہانی جس کے ہر زخم میں میرا ہی لہو بولتا ہو اک اندھیرے کا دیوتا میری صورت میری آواز میری ہنسی کا دشمن اور میں — کسی سنسان جنگل میں جہاں لفظ گرتے ہوں درختوں سے جہاں سایے بھی پیچھا چھوڑ دیں جا کر بیٹھوں اور بس لکھتا رہوں جب تک کہانی مجھ سے نکل کر میری موت نہ لکھ دے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
