میں حسن ابنِ علی ہوں
میرے نانا باعثِ عالمین ہیں میرے نانا شاہِ مشرکین ہیں میرے بابا رسُول کا بستر پانے والے میرے بابا حق سے علم پانے والے میری ماں بقا ہے ذوالجلال کے دیں کا پردہ ہے میری ماں مالک یومِ دیں کا میرا بھائی وہ جو دیں بچانے والا میرا بھائی وہ جو خدائی بچانے والا بھائی میرا اِک جس کا سیہ ہے کڑتا ماں نے نام اُس دلاور کا عبّاس خود رکھا ماں نے بلایا گیا جاب میں صلح کے واسطے دربار میں کیا یوں اِک بد کلام نے زباں کو بے لگام دربار میں میں نے دیا خطبہ بابا کے لہجے میں تو وہ ڈر گئے دیکھا میرے چہرے پر اللّٰہ کا جلال تو وہ مر گئے رضاؔ پسرِ حیدر چال معاویہ کی قمر توڑ کر چلے یوں حسن ابنِ علی صلح کا منہ توڑ کر چلے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
