میں بھی عجیب انسان ہوں
میں بھی عجیب انسان ہوں زخموں کا لباس پہنے ہنستا ہوں، مگر اندر ہی اندر کسی بچھڑے درد کو سہتا ہوں اس شہرِ سنگ دل میں، میں وفا کی بھولی رسم ڈھونڈتا ہوں جہاں ہنسی کے پیچھے خنجر ہوں میں ایک بے ضرر نظر ڈھونڈتا ہوں دلوں میں چالاکیاں پلتی ہیں چہروں پہ نرمی کا فریب ہے میں ان آنکھوں میں، لالچ کی تہہ میں اک سادہ سا پیار ڈھونڈتا ہوں کبھی جو ہاتھ تھامے تھے وہی ہاتھ چھری بن گئے اور میں، اُس وار کے بعد بھی کسی لمس کا اثر ڈھونڈتا ہوں تھک چکا ہوں ان راستوں سے جہاں ہر موڑ پہ تنہائی ہے پھر بھی شام ڈھلے دل کے کونے میں کوئی ٹوٹا ہوا انتظار ڈھونڈتا ہوں میرے لفظوں میں اب شور نہیں صرف سسکیوں کی رم جھم ہے میں خامشی کی چیخوں میں اپنا کوئی ہمسفر ڈھونڈتا ہوں میں بھی عجیب انسان ہوں جل چکا ہوں، راکھ ہو چکا ہوں اور اسی راکھ میں ہر رات اک جلتا ہوا نگر ڈھونڈتا ہوں
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
