میں بہت تھک گیا ہوں
تم ہی نہیں زندگی بھی… روز نیا دھوکہ دیتی ہے محبتیں ہاں، وہ بھی ملیں بس کردار کے پیچھے چھپے ہوئے اداکاروں کی طرح رشتے— عجیب سے لوگ جن کی مسکراہٹ تعویذ کی طرح میٹھی اور دل— زہر سے بنا ہوا پیالہ میں سمجھ گیا ہوں لفظوں میں چھپی نفرت اور دعاؤں میں چھپا حسد کا شور کون کسے چاہتا ہے؟ بس فریب کا کاروبار چل رہا ہے احساس بھی— سود پر دیتے ہیں لوگ واپسی میں خالی آنکھیں وصول کرتے ہیں اس لیے اب کوئی بحث نہیں کوئی سچ، کوئی جھوٹ نہیں جو کہو صحیح ہے جو چاہو حقیقت ہے میں تھک گیا ہوں اپنی سچائی کی لاش لیے پھر کر تمہارے جھوٹ کے شہر میں اب اگر کہو کہ میرے لیے دل میں محبت ہے تو میں بھی مسکرا کر کہہ دوں گا: ہاں، بالکل محبت ہی ہے… بس تھوڑی سی زہر آلود۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
