میں... اور وہ
میں نے دیکھا، وہ آیا، سیاہ لبادے میں قدموں کے نیچے چیخیں، ہاتھوں میں خوابوں کی لاشیں میرے شہر کے در و دیوار کانپنے لگے چراغ بجھنے لگے، سانسیں جمنے لگیں میں نے لکھا — ایک ہستی جو نور سے گرا اک حلقہ جس نے وفا کو خریدا اک سایہ جو دیوتا بن بیٹھا اور خلقِ خدا کو غلام کر لیا میں نے لکھا، لکھتا گیا، تھکتا نہ تھا اس کے ظلم کو گنتا گیا، رکتا نہ تھا پر ایک دن… جب خاموشی چھا گئی، جنگیں مٹ گئیں جب وہ راکھ ہوا، اور لوگ آزاد ہوئے میں آئینے کے سامنے بیٹھا قلم ہاتھ میں، چہرہ سوچوں میں اور اچانک… میری آنکھوں میں وہی دہکتا شعلہ تھا میری سانسوں میں وہی زہر سا جُملہ تھا "سب میرے قابو میں ہو… ہر دل، ہر خواب" میں چونک اٹھا کیا میں نے صرف اس کو لکھا؟ یا خود کو؟ کیا وہ میری ہی پیاس تھی؟ کیا وہ میری ہی انا کا عکس تھا؟ کیا میں… وہی ہوں؟ جسے میں صدیوں سے نفرت میں قید کرتا آیا؟ جسے میں "اندھیرا" کہتا رہا؟ کیا میں وہی سایوں کا شہنشاہ ہوں؟ جس کی تلوار الفاظ ہیں، اور زنجیریں خیال؟
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
