میں آئی ہوں
دیکھ غازی میں آئی هوں کرنے چہلم شبیر کا میں آئی ہوں شبیر تیرے مشن کو دیکھ کامیاب کر کے میں آئی ہوں میں بابا علی کے لہجے میں تیرے خطبہ دینے تیرے دربار میں آئی ہوں اے یزید تونے کیا قتل بھائی میرا کربل میں اُسی ظلم کا بدلہ لینے کو میں آئی ہوں کس وجہ سے بدر و اُحد گا رہا ہے تو دیکھ کرنے غرق تُجھے میں آئی ہوں آئیے جب مختار دربارِ ابنِ زیاد میں تو بولی بی بی تلوار نہ چلانا بھائی دیکھ میں دربار میں آئی ہوں مُجھ کو گلی محلے پھرایا ہے ظالموں نے مگر لگا کر علم عباسِ کا ہر گھر پر میں آئی ہوں دیکھ غازی جسکو تونے بٹھایا تھا محمل پر بعد تیرے بن محمل اونٹ پر میں بٹھائی گئی ہوں رضاؔ جو سلوک نہ ہوا کسی پیغمبر کی آل کے ساتھ ہر مُلک و بازار کے دربار میں وہ سہ کے میں آئی ہوں
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
