میں۔۔
کبھی پہاڑوں جیسی مضبوط لڑکی ہوں میں، کبھی جھاگ جیسی بیٹھی ہوں میں۔ پھر وہ ہوتا ہے کہ خود کو مضبوط سمجھتی ہوں میں، اور پھر ہوتا ہے کہ کچھ بھی نہیں ہوں میں۔ زندگی کی پہیلیوں میں سے ایک پہیلی ہوں میں، تم نہ جسے بوجھ پاؤ، ایسی اُلجھی ہوئی کلی ہوں میں۔ کبھی پہاڑوں جیسی مضبوط لڑکی ہوں میں، کبھی اپنے دل کی کرتی ہوں میں۔ تم نے دیکھا ہے زرد پتّوں کو خُسخُساتے ہوئے؟ ایسی باتیں خود سے کرتی ہوں میں۔ میں نے سمجھا تھا — دنیا ہے تو سب کچھ ہوں میں، پھر یاد آیا — اکیلی ہی تو سب کچھ کرتی ہوں میں۔ کبھی پہاڑوں جیسی لڑکی ہوں میں، کبھی خاموش آنکھوں سے سب کو دیکھتی ہوں میں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
