ملکہِ کائنات
پاک سیّدہ وہ جن کا باغِ اِرم شامل ہے سیّدہ کے شوہر کی ولا دلیلِ ایمانِ کامل ہے حق مہر میں دیا گیا ہے جن کو کائینات کا نمک اُنسے عداوت کر کے تم ہو گئے ہو نمک حرام تا قیامت تم اُنکے دُشمن کو چھپاتے ہو کیوں کر بتاؤ کس نے جلایا جنت کے ملکوں کا گھر کیوں کر عزت کرتے ہو تم اُنکے قاتل کی جن کو رضائیں دے دیں خدائی نے اپنی کیا تعلق ہے جناب کا اُن مدینے کے لٹیروں سے جن سے مانگا کاغذ و کلم رسولِ اکرم برحق نے زبردستی گھس بیٹھے ہیں رسول کے دیار میں این گے جب مولا حساب لیں گے مزار سے نکال کے بنا رکھا ہے اُنکو آج مسلمان پکر کر بھاگا کرتے تھے جو پہاڑوں پر لوگ لوٹ کر خدا کے بندو بتا رہے ہو تم جن کو آج بہادر وہ بھی ہوتا ہے بہادر نکلتا ہو غصّہ جن کا بہن پر رضاؔ لعنت ہے ہر اُس ملعون پر تا لمحہِ آخرِ محشر جلانے میں ہاتھ ہے جِس کا عرش سے اعلٰی ترین گھر
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
