مجھے اُس سے ملنا ہے...
مجھے اُس سے ملنا ہے، جو میرے جیسا ہے مگر ابھی ٹوٹا نہیں۔ اکیس برس کا سادہ بدن، اور آنکھوں میں ایسے خواب جنہیں تقدیر کی دھوپ چھاؤں ابھی چھوا بھی نہیں۔ مجھے اُس کے پاس جانا ہے، نرمی سے اُس کا ہاتھ تھامنا ہے، جیسے کوئی آخری صدی اپنے ماضی کو چھو لے— میں اُس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کے خاموشی سے کہنا چاہتا ہوں: "مت جا اُس رستے پر جس کے آخری موڑ پر میں ہوں— بکھرا، جلا، ہارا ہوا۔" لیکن میں جانتا ہوں اُسے جانا ہے، کیونکہ ہر وجود کو اپنا زخم خود چننا ہوتا ہے۔ وہ مجھے دیکھے گا— اک پل کو شاید رُک بھی جائے— پھر ہنس دے گا اپنی ناسمجھی پر اور چل پڑے گا اُسی سمت جہاں اندھیرے میں میں اُس کا انتظار کر رہا ہوں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
