ماں بابا 🥹
جب تھک ہار کے گرا کوئی ہاتھ نہ بڑھا، جب آنکھیں بھر آئیں کوئی پاس نہ کھڑا رہا۔ جو کندھے پہ رکھ دیتے تھے سر پیار سے، وہ سایہ ہی اپنی نظروں سے ہٹا۔ جو سر پہ تھا سایہ وہ چھوٹا کہیں، ماں باپ کی مہک اب آتی نہیں۔
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
