ڈھلتی زندگی
ایک اور دن ڈھلا پھر شام ہوئی زندگی کچھ سہی مگر اختتام ہوئی وہ دل میں بسی بچپن کی یادیں وہ کھلے چہرے اور معصوم باتیں وہ شبنم سی پڑتی اپنوں کی چاہتیں وہ صبح کا انتظار، وہ پرسکون راتیں نجانے وہ یادیں اب کہاں کھو گئیں مانندِ بھولا ہوا خواب ہو گئیں ایک اور دن ڈھلا پھر شام ہوئی زندگی کچھ سہی مگر اختتام ہوئی بچپن سے نکلے تو جوان ہوئے یعنی اپنوں کی امیدوں کا سامان ہوئے جو تھے دوسروں کے، محسوس اپنے ارمان ہوئے رخِ زندگی بدلا تو حیران ہوئے تصورِ بہشت سے بدگمان ہوئے دنیا سے تھے ہی ، خود سے بھی نالاں ہوئے پھر عشق میں پڑے اور ویران ہوئے یعنی گُل ہی سببِ بربادیٔ گلستاں ہوئے جوانی بھی اب تو ڈھلنے کو ہے یعنی شمعٔ حیات اب بجھنے کو ہے
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
