life
لگے ماضی جو ہم کو مانند اِک لمحہ پھر حال کیوں گزارے نہیں گزرتا ہے بےقرار جو وہ مجھ سے ملنے کو وہ مستقبلِ ناکہواستہ کیوں ٹالے نہیں ٹلتا مانو وقت ہے محروم جیسے چشم و گویائی سے کہ چِلا لو خوب یا اشک بہا لو، وہ کبھی نہیں رکتا نالاں رہا جو عمر بھر اِس زماں و مکاں سے پھر کیوں بسترِ مرگ پر وہ خوش نہیں دکھتا کہلو چاہے سو بار کہ اُکتا گیا ہوں دنیا سے یہ دل تو کبھی نہیں بھرتا ہے موضوع اپنا باطن ہی ہر ایک غزل میں خود سے ہٹ کر مگر کیوں میں نہیں لکھتا
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
