کیوں چھوڑا اکیلا
کیوں چھوڑا مجھے راہ میں تنہا، کیوں چھوڑا دل پوچھتا ہے بار بار تجھ سے، کیوں چھوڑا وعدوں کی وہ خوشبو بھی بکھر سی گئی آخر ہر خواب ہوا خاک کا ذرہ، کیوں چھوڑا ہم ساتھ چلے تھے تو سفر روشن سا لگا پھر موڑ پہ تو نے مجھے روکا، کیوں چھوڑا اب دل میں فقط درد کی گونجیں ہی بچی ہیں تو نے یہ اندھیرا مجھے دیا، کیوں چھوڑا
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
