کیا ہے درِ سیدہ
جو در ہو کائینات کا اعلیٰ ترین در فرشتوں کی بوسہ گاہ ہے یہ در یہ در ہے وہ جس پے سلمان پلکوں سے جھاڑو دیں یہ وہ در جس پر روز میسم تیمار سجدہ ادا کریں یہ وہ در جس کی ولی تعظیم کریں یہ وہ در کے جس پر علی ازن لیں یہ وہ در کے جسے نوح و آدم قبلہ گاہ سمجھیں یہ وہ در جس کو ابراھیم مدد گار کا در کہیں یہ وہ در جس کا کریں پرندے احترام یہ وہ در جس در پر پرهیں نبی قرآن پر افسوس کے سمجھا نہیں مسلماں بعد نبی اس در پر دی گئی دھمکیاں اِک روز ہوئی حد سِتم پار اس قدر آئے لوگ جلانے یہ پاک و پاکیزہ در جس در پر نبی اکرم آہستہ کیا کرتے کلام اِک گستاخِ بے حد نے کیا نجس زبان کو بے لگام پوچھا گیا اندر سے کون ہے تو جواب دیا گیا باہر بھیجو حیدر ع کو جب مانا نہیں ستمگر اور بڑھایا گیا اسرار اسکو جواب دینے چلیں سیّدہ بصد عزت و وقار کہا گیا کون ہو تم اے مسلماں جواب دیا گیا تم کون ہو مسلماں جب نا آئے باہر حیدر کرار تو ہوا اسرار گستاخ نے کیا اِک زور دار ٹانگ کا وار رضاؔ کرنی ہے ہے ہر ملعون پر لعنت آج جس جس نے لگائی ہے درِ سیّدہ پر آگ
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
