خوبصورت جنگل کے سوئے ہوئے جانو
ایک وادی تھی، سبز و شاداب، جہاں دھوپ کے نرم لمس میں روشنی کھیلتی تھی، پر جانور… ارے بھائی، سوئے سوئے، بے حس، کچھ نشے میں، کچھ سڑا ہوا گوشت چبا رہے، اور شیر و چیتا، حکمران، پہاڑوں کی چھاؤں میں بیٹھے، بے پروائی سے اپنی طاقت کا تماشا دکھا رہے تھے۔ اوپر درختوں پر الو اور کوے بیٹھے، ہوشیار! جنت اور جہنم کے خواب بیچ رہے تھے، چھوٹے چھوٹے جانوروں کو ڈرا رہے، “یہ ہواؤں میں، وہ آگ میں!” نیچے عوام گھاس میں لیٹے، آنکھیں جھپک رہے، خوابیدہ یا مست۔ لومڑیاں کھڑکی سے جھانک رہی تھیں، ہنس رہی تھیں، چوہے بھاگ رہے تھے، ٹوٹے خواب کے ساتھ، خبریں اُڑتی جا رہی تھیں جیسے پرندے کاغذ کے، پر سب مصروف اپنے آئینے اور چمکدار اسکرینوں میں۔ اور ایک نظر رکھنے والا، جو سب کچھ جانتا تھا، دیکھ رہا تھا ظلم، بے حسی، اور ناہمواری، پر طاقت کمزور، کچھ نہیں کر سکتا تھا، بس خاموشی سے سب دیکھتا، سب کچھ سمجھتا، اور دل میں سوچتا، ارے بھائی، یہ جنگل بھی عجیب ہے!
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
