"خرگوشوں کی گفتگو
بارش کی تیزی، ہر شے بھیگی ہوئی، دو خرگوش چھپے تھے اک پیڑ تلے۔ لرزتی سانسوں میں پہلا بولا، "یہ جنگل اب سونا کیوں لگتا ہے؟" ۲ دوسرا بولا، "یہ وہی جگہ ہے، جہاں کبھی ہر پتا گاتا تھا۔ ہم کردار تھے کسی خواب کے، اب جیسے وہ خواب بھی سُو گیا۔" ۳ "صدیاں گزر گئیں، پر وہ نہ آیا، وہ لڑکا، جو ہمیں بناتا تھا۔ صفحات پر جو روشنی تھی کبھی، اب صرف نمی ہے، اور خالی جگہ۔ دوسرے خرگوش نے بولا وہRemo car جس نے اُسے جنگل میں دیکھا۔ کہا، کچھ ٹوٹا تھا اُس کے دل میں، پھر وہ کبھی پلٹ کر نہ آیا۔" "تو کیا یہ سب یوں ہی رُک جائے گا؟ ہم وقت کی قید میں دفن رہیں گے نہ نیا لفظ، نہ کہانی کا موڑ، نہ خالق، نہ کوئی انجام؟" پھر دونوں نے طے کیا خاموشی میں، "ہم خط لکھیں گے، بارش کی روشنائی سے۔ شاید وہ محسوس کرے ہماری پکار، اور پھر سے کوئی صفحہ پلٹے۔"
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
