خاموش شور
کچھ آوازیں ہیں جو سنائی نہیں دیتیں، مگر رات بھر دل کے دروازے کھٹکھٹاتی رہتی ہیں۔ میں کھڑکی بند کر لیتی ہوں، چراغ مدھم کر دیتی ہوں، پھر بھی کسی انجانی آہٹ کا پیچھا ختم نہیں ہوتا۔ جو ٹوٹا نہیں وہ بھی بکھرا بکھرا لگتا ہے، اور جو میرا نہیں وہ بھی اپنا سا بوجھ بن جاتا ہے۔ کسی نے پوچھا تھا کیوں تھک جاتی ہو بنا سفر کے؟ میں مسکرا دی— کچھ راستے قدموں سے نہیں خیالوں سے طے ہوتے ہیں۔ —قرۃالعین
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
