"کچھ یادیں بچپن کی"
چھت پر شہد کے چھتے تھے مکھیوں کی بھنبھناہٹ مجھے سکھاتی تھی کہ محنت کے شور میں بھی مٹھاس چھپی ہوتی ہے آنگن میں مرغیاں دانہ چگتیں اور میں دادی کے حکم پر گھونسلوں میں جھانکتا ہر انڈا میرے ہاتھ میں کائنات کی گواہی تھا کہ زندگی ایک باریک خول میں بھی سانس لیتی ہے میں چند انڈے چھپاتا، کانگڑی کی گرم آنچ پر ان کا بھید کھولتا بھاپ اٹھتی تو یوں لگتا جیسے وقت بھی لمحہ بھر کو نرم ہو گیا ہو وہ سادہ ذائقے، وہ چھوٹی خوشیاں میرے دل کو ایک فلسفہ سکھاتی رہیں— کہ سکون، نہ شہد کی مٹھاس میں ہے نہ بھاپ اڑاتے پیالے میں، بلکہ اس خاموشی میں ہے جسے بچپن بے خبر جانتا تھا اب آسائش ہے، مگر دل خالی ہے اے خالق، مجھے وہی نادان سکون لوٹا دے کہ جہاں ایک انڈا، ایک سیب، یا شہد کی بوند ہی زندگی کو مکمل بنا دیتی تھی
Ad
Poetry Books 50% Off
Bestselling collections from top poets
Shop Now →
